30 اکتوبر 2024 - 08:15
پاکستان: ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن پر عدم پیش رفت، ایرانی مقدمے سے نمٹنے کیلئے قانونی فرمز ہائر

حکومت پاکستان نے گیس کی قلت کا کوئی انتظام کرنے اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن مکمل کرنے کے بجائے ایرانی مقدمے سے نمٹنے کے لئے قانونی فرمز اور وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے!

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ 

حکومت پاکستان نے گیس کی قلت کا کوئی انتظام کرنے اور ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن مکمل کرنے کے بجائے ایرانی مقدمے سے نمٹنے کے لئے قانونی فرمز اور وکیلوں کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور تین قانونی فرموں اور آسٹریلیا میں مقیم ایک اہم وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں تاکہ گیس پائپ لائن پرپیشرفت نہ کرنے پر پیرس میں ثالثی کی عدالت میں ایرانی مقدمے سے نمٹا جا سکے۔

یہ مقدمہ ایران نے پاکستان کے خلاف اس بنیاد پر دائر کیا ہے کہ پاکستان نے اپنی حدود میں پائپ لائن کا حصہ مکمل نہیں کیا اور نہ ہی ایران-پاکستان گیس پائپ لائن کے تحت 750 ایم ایم سی ایف ڈی گیس وصول کی ہے۔

اعلیٰ سرکاری ذرائع کے مطابق پاکستان نے تین معروف بین الاقوامی قانونی فرموں - وائٹ اینڈ کیس، تھری کراؤنز، وِلکی فیر گیلگر - اور آسٹریلیا میں مقیم ایک اہم وکیل کی خدمات حاصل کی ہیں، جو تیل اور گیس کے بنیادی ڈھانچے کے شعبے میں دنیا کے معروف وکلاء میں میں شامل ہیں۔

متعلقہ حکام نے ایران-پاکستان (آئی پی) گیس پائپ لائن منصوبے اور پاکستان کی طرف سے اس بین الاقوامی منصوبے کو مکمل نہ کر پانے کی وجوہات پر اپنی قانونی فرموں - وائٹ اینڈ کیس، تھری کراؤنز، وِلکی فیر گیلگر - اور مرکزی وکیل کو بریفنگ دی ہے۔ اور کہا ہے: "ہم نے 18 اکتوبر 2024 کو فرانس میں واقع ثالثی عدالت کے سیکرٹریٹ میں پاکستان کی نمائندگی کرنے والی قانونی ٹیم کی تفصیلات جمع کروا دی ہیں"۔

پاکستان اب قانونی ٹیم کے مشورے سے ایک ثالث مقرر کرے گا، جبکہ ایران بھی ایک ثالث نامزد کرے گا اور پھر دونوں ممالک مشترکہ طور پر تیسرے ثالث کو نامزد کریں گے۔

اس طرح ثالثی عدالت مکمل ہو جائے گی اور مقدمے کی کارروائی شروع ہو جائے گی۔ ایک بار جب ثالثی عدالت مکمل ہو جائے گی تو توقع ہے کہ ایک سال کے اندر مقدمے کا فیصلہ ہو جائے گا۔

اس سے پہلے اگست 2024 میں، ایران نے پاکستان کو حتمی نوٹس جاری کیا تھا کہ تہران کے پاس کوئی اور آپشن نہیں بچا ہے سوائے اس کے کہ وہ ستمبر 2024 میں پاکستان کے خلاف پیرس کی ثالثی عدالت سے رجوع کرے کیونکہ پاکستان نے آئی پی گیس منصوبے کے تحت پائپ لائن نہیں بنائی۔

یہ منصوبہ 2014 سے امریکی پابندیوں کی تجویز کی وجہ سے 10 سال کی تاخیر کا شکار ہے۔

۔۔۔۔۔۔

نکتہ: پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ منصوبہ 10 سال کی تاخیر کا شکار تو ہے لیکن تاخیر کا لفظ اس وقت استعمال میں لایا جاتا ہے کہ حکمران اس کی تکمیل کے لئے پرعزم ہوں، چنانچہ تاخیر کی جگہ "خاتمے" کا لفظ استعمال کرنا چاہئے کہ بات بین الاقوامی عدالتوں میں پہنچ گیا اور اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ پاکستانی عوام کی ضرورت کا یہ اہم منصوبہ ناکام اور اختتام پذیر ہو چکا ہے۔

دوسری بات یہ کہ چین اور بھارت نے امریکی پابندیوں کے اسی عرصے میں ایران کے ساتھ اپنی تجارت جاری رکھی ہے اور اپنے قومی مفادات کی خاطر امریکی پابندیوں کو نظر انداز کرتے رہے ہیں۔

تیسری بات یہ کہ امریکی پابندیاں صرف امریکی حکومت کی طرف سے عائد کردہ ہیں اور ان کی بین الاقوامی طور پر کوئی حیثیت نہیں ہے۔ اور کوئی بھی خودمختار ملک امریکی مفادات کو قومی مفادات پر مقدم نہیں رکھتا، سوا بعض ممالک جن کے حکمران اپنے ہی ملکوں کی طاقت اور صلاحیتوں پر باور بھروسہ نہیں ہے۔

۔۔۔۔۔۔

110